بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: زیتون کے تیل کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل باب: زیتون کے تیل کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3319 سنن ابن ماجہ
الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْتَدِمُوا بِالزَّيْتِ وَادَّهِنُوا بِهِ , فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: زیتون کا تیل بطور سالن استعمال کرو، اور اس کو اپنے سر اور بدن میں لگاؤ اس لیے کہ یہ مبارک درخت سے نکلتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الأطعمة 43 (1851)، (تحفة الأشراف: 10392)، وقد أخرخہ: مسند احمد (3/497) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اس کو شجرہ مبارکہ فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3320 سنن ابن ماجہ
عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، جَدِّهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ , فَإِنَّهُ مُبَارَكٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: زیتون کا تیل بطور سالن استعمال کرو، اور اس کو سر اور بدن میں لگاؤ، اس لیے کہ یہ بابرکت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14338، ومصباح الزجاجة: 1144) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (عبد اللہ بن سعید متروک ہیں، اور حدیث کا معنی ثابت ہے، کماتقدم)
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا بزيادة فإنه طيب وقال عنه ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عبد اللّٰه بن سعيد المقبري: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
الحكم: ضعيف جدا بزيادة فإنه طيب وقال عنه ضعيف