هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَدَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ ، أَبِيهِ ، وَحْشِيٍّ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَدَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالُوا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ وَحْشِيٍّ ، أنهم قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ، قَالَ:" فَلَعَلَّكُمْ تَأْكُلُونَ مُتَفَرِّقِينَ"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
وحشی بن حرب حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”شاید الگ الگ متفرق ہو کر کھاتے ہو“، لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کھانا مل جل کر ایک ساتھ کھاؤ، اور اللہ کا نام لیا کرو، تو اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأطعمة 15 (3764)، (تحفة الأشراف: 1179)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/501) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 97)۔»
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا اجتماعی کھانا شکم سیری اور حصول برکت کا سبب ہے اور اس سے گریز بے برکتی کا باعث ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3764)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
الحكم: حسن