بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بلی کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: شکار کے احکام و مسائل باب: بلی کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3250 سنن ابن ماجہ
الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عُمَرُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَكْلِ الْهِرَّةِ وَثَمَنِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/البیوع 64 (3480)، سنن الترمذی/البیوع 49 (1280)، (تحفة الأشراف: 2894) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عمر بن زید ضعیف ہیں، اسی لئے ترمذی نے حدیث کو غریب یعنی ضعیف کہا ہے، سنن ابن ماجہ کے دارالمعارف کے نسخہ میں البانی صاحب نے ضعیف کہا ہے، اور الإرواء: کا حوالہ دیا ہے، (2487)، اور سنن أبی داود کے دارالمعارف کے نسخہ میں صحیح کہا ہے، اور احادیث البیوع کا حوالہ دیا ہے، جب کہ ارواء الغلیل میں حدیث کی تخریج کے بعد ضعیف کا حکم لگایا ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: ضعيف