بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: تیر کمان سے شکار کا حکم۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: شکار کے احکام و مسائل باب: تیر کمان سے شکار کا حکم۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3211 سنن ابن ماجہ
أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ ، ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کو کھاؤ جو تمہاری کمان شکار کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11867) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3212 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَامِرٍ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِي، قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ، وَخَزَقْتَ فَكُلْ مَا خَزَقْتَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تیر انداز لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تیر مارو اور وہ (شکار کے جسم میں) گھس جائے، تو جس کے اندر تیر پیوست ہو جائے اسے کھاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد ابن ماجة بھذاالسیاق (تحفة الأشراف: 9868، ومصباح الزجاجة: 1104)، قد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 3 (2054)، الذبائح 3 (5477)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2847)، سنن الترمذی/الصید 1 (1465)، 3 (1467)، سنن النسائی/الصید 3 (4270)، مسند احمد (4، 256، 258، 380)، سنن الدارمی/الصید 1 (2046) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں مجالد بن سعید ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح