بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قابو سے باہر ہو جانے والے جانور کو کیسے ذبح کیا جائے؟
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: ذبیحہ کے احکام و مسائل باب: قابو سے باہر ہو جانے والے جانور کو کیسے ذبح کیا جائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3183 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَدَّ بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لَهَا أَوَابِدَ أَحْسَبُهُ، قَالَ: كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ سرکش ہو گیا، ایک شخص نے اس کو تیر مارا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان میں کچھ وحشی ہوتے ہیں، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنگلی جانوروں کی طرح تو جو ان میں سے تمہارے قابو میں نہ آ سکے، اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: (3137)، (تحفة الأشراف: 3516) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی بسم اللہ کہہ کر تیر، برچھی وغیرہ سے مار دو، اگر وہ مر جائے تو حلال ہو گا یہ اضطراری ذبح ہے، اس کا حکم مثل ذبح کے ہے، جب ذبح پر قدرت نہ ہو، اب تیر کے قائم مقام بندوق اور توپ ہے، اگر بندوق بسم اللہ کہہ کر چلائے، اور جانور ذبح کرنے سے پہلے مر جائے تو وہ حلال ہے، یہی قول محققین کا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3184 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَبِي الْعُشَرَاءِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَكُونُ الذَّكَاةُ، إِلَّا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ؟، قَالَ:" لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالعشراء کے والد کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا صرف حلق اور کوڑی کے بیچ ہی میں (ذبح) کرنا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کی ران میں کونچ دو تو بھی کافی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأضاحي 16 (2825)، سنن الترمذی/الصید 13 (1481)، سنن النسائی/الضحایا 24 (4413)، (تحفة الأشراف: 15694)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/334)، سنن الدارمی/الأضاحي 12 (2015) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابو العشراء اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2535)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2825) ترمذي (1481) نسائي (4413)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
الحكم: ضعيف