أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ: أَنَّ قَوْمًا قَالُوا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِلَحْمٍ، لَا نَدْرِي ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا، قَالَ:" سَمُّوا أَنْتُمْ وَكُلُوا"، وَكَانُوا حَدِيثَ عَهْدٍ بِالْكُفْرِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت (بیچنے کے لیے) لاتے ہیں، اور ہمیں نہیں معلوم کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم بسم اللہ کہہ کر کھاؤ“ اور وہ لوگ (ابھی) نو مسلم تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3174]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17027)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 5 (2057)، الصید 21 (5507)، التوحید 13 (7398)، صحیح مسلم/الأضاحي 5 (1971)، سنن ابی داود/الأضاحي 19 (2829)، سنن النسائی/الضحایا 38 (4441)، موطا امام مالک/الذبائح 1 (1)، سنن الدارمی/الأضاحي 14 (2019) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح