مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو بكر ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيِّ ، جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ ، مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو بكر ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" ابْتَعْنَا كَبْشًا نُضَحِّي بِهِ، فَأَصَابَ الذِّئْبُ مِنْ أَلْيَتِهِ أَوْ أُذُنِهِ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنَا أَنْ نُضَحِّيَ بِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے قربانی کے لیے ایک مینڈھا خریدا، پھر بھیڑئیے نے اس کے سرین یا کان کو زخمی کر دیا، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (اس سلسلے میں) سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسی کی قربانی کریں۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4298، ومصباح الزجاجة: 1089)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/32، 86) (ضعیف جدا)» (سند میں جابر بن یزید الجعفی کذاب، اور اس کے شیخ محمد بن قرظہ الانصاری غیر معروف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد جدا
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
وفي رواية أحمد (78/3،86) ’’ سمعه من أبي سعيد،محمد ؟ قال: لا ‘‘ وجابر الجعفي: ضعيف مشهور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
الحكم: ضعيف الإسناد جدا