بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل باب: منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3065 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی، کیونکہ زمزم کے پلانے کا کام ان کے سپرد تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3065]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 133 (1745)، صحیح مسلم/الحج 60 (1315)، سنن ابی داود/المناسک 75 (1959)، (تحفة الأشراف: 7939)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/22)، سنن الدارمی/المناسک 91 (1986) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: عذر کی وجہ سے اجازت خاص طور پر تھی ورنہ ہر شخص کو منیٰ کی دنوں میں یہ ضروری ہے کہ رات منیٰ میں بسر کرے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3066 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمْ يُرَخِّصْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَحَدٍ يَبِيتُ بِمَكَّةَ، إِلَّا لِلْعَبَّاسِ مِنْ أَجْلِ السِّقَايَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (منیٰ کے دنوں میں) کسی کو مکہ میں رات گزارنے کی اجازت نہیں دی سوائے عباس کے، کیونکہ حاجیوں کو پانی پلانے کا کام ان کے سپرد تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5882، ومصباح الزجاجة: 1065) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (سند میں اسماعیل بن مسلم ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ضعفه البوصيري من أجل إسماعيل بن مسلم ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 486
الحكم: ضعيف الإسناد