أَبُو مُصْعَبٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ فَسْخَ الْحَجِّ فِي الْعُمْرَةِ لَنَا خَاصَّةً، أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَلْ لَنَا خَاصَّةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کو فسخ کر کے عمرہ کر لینا صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے یا سارے لوگوں کے لیے عام ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”(نہیں) بلکہ صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2984]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحج 25 (1808)، سنن النسائی/الحج 77 (2810)، (تحفة الأشراف: 2027)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/469)، سنن الدارمی/المناسک 37 (1897) (ضعیف)» (حارث لین الحدیث ہیں، اور ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے، اس لیے منکر ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 1586)
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: ضعيف