بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حج قِران کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل باب: حج قِران کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 2968 سنن ابن ماجہ
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحِجَّةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے، میں نے آپ کو حج اور عمرہ کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2968]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 34 (1251)، سنن ابی داود/الحج 24 (1795)، سنن النسائی/الحج 49 (2730)، (تحفة الأشراف: 1653)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 11 (821)، مسند احمد (3/99، 282)، سنن الدارمی/المناسک 78 (1965) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2969 سنن ابن ماجہ
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحِجَّةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «لبيك بعمرة وحجة» حاضر ہوں عمرہ اور حج کے ساتھ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2969]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 724) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی آپ نے عمرہ اور حج کا تلبیہ ایک ساتھ پکارا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2970 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ، الصُّبَيَّ بْنَ مَعْبَدٍ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الصُّبَيَّ بْنَ مَعْبَدٍ ، يَقُولُ:" كُنْتُ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ، فَأَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَسَمِعَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا بِالْفَارِسِيَّةِ، فَقَالَا: لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِهِ، فَكَأَنَّمَا حَمَلَا عَلَيَّ جَبَلًا بِكَلِمَتِهِمَا فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمَا فَلَامَهُمَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ: هُدِيتَ لِسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هُدِيتَ لِسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ شَقِيقٌ: فَكَثِيرًا مَا ذَهَبْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ نَسْأَلُهُ عَنْهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
صبی بن معبد کہتے ہیں کہ میں نصرانی تھا، پھر اسلام لے آیا اور حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا، سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان نے مجھے قادسیہ میں عمرہ اور حج دونوں کا تلبیہ ایک ساتھ پکارتے ہوئے سنا، تو دونوں نے کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ نادان ہے، ان دونوں کے اس کہنے نے گویا میرے اوپر کوئی پہاڑ لاد دیا، میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ملامت کی، پھر میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کو پایا، تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کو پایا ۱؎۔ ہشام اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ شقیق کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں صبی بن معبد کے پاس اس حدیث کے متعلق پوچھنے باربار گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2970]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحج 24 (1798، 1799)، سنن النسائی/الحج 49 (2720، 2771، 2722)، (تحفة الأشراف: 10466)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/14، 25، 34، 37، 53) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا اس بنا پر تھا کہ سلمان اور زید رضی اللہ عنہما حج قران کو مکروہ سمجھ رہے تھے جب کہ وہ سنت رسول ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2971 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَجَّاجٌ ، الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبُو طَلْحَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو طَلْحَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ملایا یعنی قران کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3780، ومصباح الزجاجة: 1042)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/28، 29) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 1575، 1576)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس
و الحديث السابق (الأصل: 2968) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
الحكم: صحيح