بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جنگ میں عمامہ (پگڑی) پہننے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: جہاد کے فضائل و احکام باب: جنگ میں عمامہ (پگڑی) پہننے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2821 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، مُسَاوِرٍ ، جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُسَاوِرٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ کے سر پر سیاہ عمامہ (کالی پگڑی) ہے جس کے دونوں کنارے آپ اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 84 (1359)، (تحفة الأشراف: 10716)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/اللباس 24 (4077)، سنن الترمذی/الشمائل 16 (108، 109)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 56 (5348)، مسند احمد (4/307)، سنن الدارمی/المناسک 88 (1982) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: عمامہ باندھنا سنت ہے اور کئی حدیثوں میں اس کی فضیلت آئی ہے، اور عمامہ میں شملہ لٹکانا بہتر ہے لیکن ہمیشہ نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی شملہ لٹکایا ہے کبھی نہیں، اور بہتر یہ ہے کہ شملہ پیٹھ کی طرف لٹکائے اور کبھی داہنے ہاتھ کی طرف، لیکن بائیں ہاتھ کی طرف لٹکانا سنت کے خلاف ہے اور شملہ کی مقدار چار انگل سے لے کر ایک ہاتھ تک ہے اور آدھی پیٹھ سے زیادہ لٹکانا اسراف اور فضول خرچی اور خلاف سنت ہے، اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کالے رنگ کا عمامہ باندھنا مسنون ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2822 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 84 (1358)، سنن ابی داود/اللباس 24 (4076)، سنن الترمذی/اللباس 11 (1735)، سنن النسائی/الحج 107 (2872)، والزینة من المجتبیٰ 55 (5346، 5347)، (تحفة الأشراف: 2689)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/363، 387) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح