بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: وراثت میں دادا کے حصہ کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: وراثت کے احکام و مسائل باب: وراثت میں دادا کے حصہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2722 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَبَابَةُ ، يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، أَبِي إِسْحَاق ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُتِيَ بِفَرِيضَةٍ فِيهَا جَدٌّ فَأَعْطَاهُ ثُلُثًا أَوْ سُدُسًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ کے پاس ترکے کا ایک ایسا مقدمہ لایا گیا جس میں دادا بھی (وراثت کا حقدار) تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک تہائی یا چھٹا حصہ دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 11472)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الفرائض 6 (2897)، مسند احمد (5/27) (صحیح) (یونس اور ان کے د ادا میں بعض کلام ہے، لیکن ا گلی سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: احمد، ابوداود اور ترمذی نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے یوں روایت کی کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرا پوتا مر گیا ہے تو مجھ کو اس کے ترکہ میں سے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چھٹا حصہ، جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو اس کو بلا کر فرمایا: ایک چھٹا حصہ سلوک کے طور پر (یعنی اصل میراث تیری صرف سدس (چھٹا حصہ) ہے اور ایک سدس اس صورت خاص کی وجہ سے تجھ کو ملا ہے) بخاری ومسلم نے حسن کی روایت مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور دادا کے باب میں صحابہ اور بعد کے علماء کے درمیان اختلاف ہے، بعضوں نے دادا کو باپ کے مثل رکھا ہے اور کبھی اس کوثلث (ایک تہائی) دلایا ہے کبھی سدس (چھٹا حصہ) کبھی عصبہ بھی کہا ہے، بعضوں نے ہمیشہ اس کے لئے سدس رکھا ہے، اسی طرح اختلاف ہے کہ دادا کے ہوتے ہوئے بہن بھائی کو ترکہ ملے گا یا نہیں تو صحابہ کی ایک جماعت جیسے علی، ابن مسعود اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کا یہ قول ہے کہ دادا بھائیوں کے ساتھ وراثت میں حصہ دار ہو گا اور بعضوں نے کہا: بھائی بہن دادا کی وجہ سے محروم ہوں گے جیسے باپ کی وجہ سے محروم ہوتے ہیں، ان مسائل کی تفصیل فرائض اورمواریث کی کتابوں میں ملے گی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن
وحديث أبي داود (2894،2895) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 477
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2723 سنن ابن ماجہ
أَبُو حَاتِمٍ ، ابْنُ الطَّبَّاعِ ، هُشَيْمٌ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ
حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الطَّبَّاعِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَدٍّ كَانَ فِينَا بِالسُّدُسِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے خاندان کے ایک دادا کے لیے چھٹے حصہ کا فیصلہ فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الفرائض 6 (2897)، (تحفة الأشراف: 11367)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/27) (صحیح) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 2576)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2897)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 477
الحكم: صحيح