بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دوسرے کے جرم اور گناہ میں کسی اور کے نہ پکڑا جائے گا۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل باب: دوسرے کے جرم اور گناہ میں کسی اور کے نہ پکڑا جائے گا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 2669 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ، لَا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: خبردار! مجرم اپنے جرم پر خود پکڑا جائے گا، (یعنی جو قصور کرے گا وہ اپنی ذات ہی پر کرے گا اور اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا) باپ کے جرم میں بیٹا نہ پکڑا جائے گا، اور نہ بیٹے کے جرم میں باپ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10694)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفتن 2 (2159) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس حدیث کی شرح میں ابن الأثیر فرماتے ہیں: «جنایہ» : گناہ اور جرم انسان کے اس کام کا نام ہے جس پر دنیا یا آخرت میں وہ عذاب یا قصاص کا مستحق ہوتا ہے، یعنی کسی رشتہ دار یا دوسرے آدمی کو غیر کے گناہ اور جرم پر نہیں پکڑا جائے گا، تو جب کوئی جرم کرے گا تو اس پر دوسرے کو سزا نہ دی جائے گی، جیسا کہ ارشادہے: «لا تزر وازرة وزر أخرى» (سورة الأنعام: 164) کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا یعنی اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کا پورا اہتمام فرمائے گا، اور جس نے اچھا یا برا جو کچھ کیا ہو گا، اس کے مطابق جزا و سزا دے گا، نیکی کا اچھا بدلہ اور برے کاموں پر سزا دے گا، اور ایک کا بوجھ دوسرے پر نہیں ڈالے گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2670 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ" يَقُولُ:" أَلَا لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ أَلَا لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طارق محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے خبردار! کوئی ماں اپنے بچے کے جرم میں نہیں پکڑی جائے گی، خبردار! کوئی ماں اپنے بچے کے جرم میں نہیں پکڑی جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4990، ومصباح الزجاجة: 941)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة 35 (4837) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2671 سنن ابن ماجہ
عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، هُشَيْمٌ ، يُونُسَ ، حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، عَنِ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِيَ ابْنِي فَقَالَ:" لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
خشخاش عنبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تیری اس کے جرم پر اور اس کی تیرے جرم پر گرفت نہیں ہو گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3534، ومصباح الزجاجة: 942)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/345، 5/81) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2672 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے جرم کا ذمہ دار نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2672]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 130، ومصباح الزجاجة: 943) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح