عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، مُطَرِّفٍ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبِي جُحَيْفَةَ ، لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِنَ الْعِلْمِ لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ؟ قَالَ:" لَا، وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا عِنْدَ النَّاسِ، إِلَّا أَنْ يَرْزُقَ اللَّهُ رَجُلًا فَهْمًا فِي الْقُرْآنِ، أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فِيهَا الدِّيَاتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا تمہارے پاس کوئی ایسا علم ہے جو دیگر لوگوں کے پاس نہ ہو؟ وہ بولے: نہیں، اللہ کی قسم! ہمارے پاس وہی ہے جو لوگوں کے پاس ہے، ہاں مگر قرآن کی سمجھ جس کی اللہ تعالیٰ کسی کو توفیق بخشتا ہے یا وہ جو اس صحیفے میں ہے اس (صحیفے) میں ان دیتوں کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہیں، اور آپ کا یہ فرمان بھی ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/العلم 40 (111)، الجہاد 171 (3047)، الدیات 24 (6903)، سنن الترمذی/الدیات 16 (1412)، (تحفة الأشراف: 10311)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الدیات11 (4530)، سنن النسائی/القسامة 5 (4738)، مسند احمد (1/79، 122)، سنن الدارمی/الدیات 5 (2401) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: امام بخاری کی روایت میں ہے کہ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کے پاس کوئی ایسی وحی ہے جو قرآن مجید میں نہ ہو؟ یعنی موجودہ قرآن میں جو سب لوگوں کے پاس ہے، اس سے شیعوں کا رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن پورا نہیں ہے اس میں سے چند سورتیں غائب ہیں، اور پورا قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، پھر ہر ایک امام کے پاس آتا رہا یہاں تک کہ امام مہدی کے پاس آیا اور وہ غائب ہیں،جب ظاہر ہوں گے تو دنیا میں پورا قرآن پھیلے گا، معاذ اللہ یہ سب اکاذیب اور خرافات ہیں، حدیث میں علی رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر بتا دیا کہ ہمارے پاس وہی علم ہے جو اور لوگوں کے پاس ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح