أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ أَبُو عُبَيْدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ أَبُو عُبَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، قَالَ سَعْدٌ: بَلَى، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْمَعُوا مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آدمی اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کا اعزاز بخشا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے“؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/اللعان 1 (1498)، سنن ابی داود/الدیات 12 (4532)، (تحفة الأشراف: 12699)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 19 (17)، الحدود 1 (7) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: دوسری روایت میں ہے: میں اس سے زیادہ غیرت رکھتا ہوں، اور اللہ تعالی مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ سعد کا یہ کہنا بظاہر غیرت کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے مگر مجھ کو اس سے زیادہ غیرت ہے، اور اللہ تعالی کو مجھ سے بھی زیادہ غیرت ہے، اس پر بھی اللہ نے جو شریعت کا حکم اتارا اسی پر چلنا بہتر ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح