بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: چور کا اعتراف جرم۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: حدود کے احکام و مسائل باب: چور کا اعتراف جرم۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2588 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سَمُرَةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَرَقْتُ جَمَلًا لِبَنِي فُلَانٍ فَطَهِّرْنِي، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا افْتَقَدْنَا جَمَلًا لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ. قَالَ ثَعْلَبَةُ: أَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ وَقَعَتْ يَدُهُ وَهُوَ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي طَهَّرَنِي مِنْكِ، أَرَدْتِ أَنْ تُدْخِلِي جَسَدِي النَّارَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمرو بن سمرہ بن حبیب بن عبدشمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے بنی فلاں کا اونٹ چرایا ہے، لہٰذا مجھے اس جرم سے پاک کر دیجئیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کے پاس کسی کو بھیجا، انہوں نے بتایا کہ ہمارا ایک اونٹ غائب ہو گیا ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا، اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں دیکھ رہا تھا جب اس کا ہاتھ کٹ کر گرا تو وہ کہہ رہا تھا: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے تجھ سے پاک کیا، تو چاہتا تھا کہ میرے جسم کو جہنم میں داخل کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2075، ومصباح الزجاجة: 915) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عبدالرحمن بن ثعلبہ مجہول اور عبداللہ بن لہیعہ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمن بن ثعلبة: مجهول (تقريب: 3824)
وابن لهيعة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 472
الحكم: ضعيف