بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حد قذف کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: حدود کے احکام و مسائل باب: حد قذف کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2567 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ، وَتَلَا الْقُرْآنَ، فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری براءت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا تذکرہ کر کے قرآنی آیات کی تلاوت کی، اور جب منبر سے اتر آئے، تو دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم دیا چنانچہ ان کو حد لگائی گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الحدود 35 (4474، 4475)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن، سورة النور25 (3181)، (تحفة الأشراف: 17898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/35، 61) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت
۱؎: اگرچہ بہتان باندھنے میں سب سے بڑھ چڑھ کر منافقین نے حصہ لیا تھا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان پر حد جاری نہیں کی، اس لئے کہ حد پاک کرنے کے لئے ہے، اور منافقین پاک نہیں ہو سکتے وہ ہمیشہ کے لئے جہنمی رہیں گے۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 2568 سنن ابن ماجہ
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ ، دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا مُخَنَّثُ، فَاجْلِدُوهُ عِشْرِينَ، وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا لُوطِيُّ فَاجْلِدُوهُ عِشْرِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی کسی کو کہے: اے مخنث! تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور اگر کوئی کسی کو کہے: اے لوطی! تو اسے بیس کوڑے لگاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6075، ومصباح الزجاجة: 909)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود 29 (1462)، ولم یذکر الشطر الثانی: وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا لُوطِيُّ! ......) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن أبی حبیبہ ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1462)
انظر الحديث المتقدم (2564)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 471
الحكم: ضعيف