بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جو شخص غلام آزاد کر دے اور اس کے پاس مال ہو تو مال کا حقدار کون ہو گا؟
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: غلام کی آ زادی کے احکام و مسائل باب: جو شخص غلام آزاد کر دے اور اس کے پاس مال ہو تو مال کا حقدار کون ہو گا؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2529 سنن ابن ماجہ
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ مَالَهُ فَيَكُونَ لَهُ"، وَقَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ: إِلَّا أَنْ يَسْتَثْنِيَهُ السَّيِّدُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے غلام کو آزاد کرے جس کے پاس مال ہو، وہ مال غلام ہی کا ہو گا، سوائے اس کے کہ مالک غلام سے اس کے مال کی شرط لگا لے تو وہ مال مالک کا ہو گا۔ ابن لہیعہ کی روایت میں (شرط کے بجائے) «إلا أن يستثنيه السيد» ہے (سوائے اس کے کہ مالک مال کا استثناء کر لے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/العتق 11 (3962)، (تحفة الأشراف: 7604)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة 17 (2379)، صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن الترمذی/البیوع 25 (1244) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2530 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ ، إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُمَيْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَيْرٍ وَهُوَ مَوْلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ لَهُ: يَا عُمَيْرُ إِنِّي أُعِتِقُكَ عِتْقًا هَنِيئًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ غُلَامًا وَلَمْ يُسَمِّ مَالَهُ فَالْمَالُ لَهُ" فَأَخْبِرْنِي مَا مَالُكَ؟
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمیر مولی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: عمیر! میں نے تمہیں خوشی خوشی آزاد کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص ایک غلام آزاد کرے اور اس کے مال کا تذکرہ نہ کرے، تو وہ مال غلام کا ہو گا، مجھے بتاؤ تمہارے پاس کیا مال ہے؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9493، ومصباح الزجاجة: 896) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں اسحاق بن ابراہیم المسعودی مجہول راوی ہیں، امام بخاری کہتے کہ حدیث کو مرفوع روایت کرنے میں ان کی متابعت نہیں کی جائے گی، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1748)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
إسحاق بن إبراهيم بن عمران بن عمير: ذكره ابن الجارود في الضعفاء ووثقه ابن وحده (تقريب: 329)
وجده عمير مولي ابن مسعود: مجهول (تقريب: 5192)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
الحكم: ضعيف