بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ام ولد (یعنی وہ لونڈی جس کی مالک سے اولاد ہو) کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: غلام کی آ زادی کے احکام و مسائل باب: ام ولد (یعنی وہ لونڈی جس کی مالک سے اولاد ہو) کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2515 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، وَكِيعٌ ، شَرِيكٌ ، حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ وَلَدَتْ أَمَتُهُ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو لونڈی اپنے مالک کا بچہ جنے، تو وہ مالک کے مر جانے کے بعد آزاد ہو جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6023، ومصباح الزجاجة: 891)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/303، 317، 320)، سنن الدارمی/البیوع 38 (2616) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حسین بن عبد اللہ متروک راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1771)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
حسين بن عبد اللّٰه: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 2516 سنن ابن ماجہ
أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، أَبُو عَاصِمٍ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي النَّهْشَلِيَّ ، الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي النَّهْشَلِيَّ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: ذُكِرَتْ أُمُّ إِبْرَاهِيمَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کی ماں کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بچے (ابراہیم) نے اسے آزاد کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6024، ومصباح الزجاجة: 894) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حسین بن عبداللہ متروک راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1772)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
ضعيف
أبو بكر بن أبي سبرة: ضعيف جدًا
وانظر الحديث السابق (2515)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 2517 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ:" كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِيَّنَا وَأُمَّهَاتِ أَوْلَادِنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا حَيٌّ لَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ اپنی لونڈیاں اور «امہات الاولاد» بیچا کرتے تھے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان زندہ تھے، اور ہم اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2835، ومصباح الزجاجة: 893)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/العتق 8 (3954)، مسند احمد (3/321) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: «امہات الاولاد» : وہ لونڈیاں جن کے بطن سے آقا (مالک) کی اولاد ہو چکی ہو۔ ابوداود کی روایت میں یہ زیادتی موجود ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ام ولد کے بیچنے سے منع فرما دیا، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے رک گئے، نیز اس حدیث کا جواب علماء نے یوں دیا ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کو نسخ کی خبر نہیں ہوئی، پہلے ام ولد کی بیع جائز رہی ہو گی پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہو گا، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا، جیسے جابر رضی اللہ عنہ نے متعہ کے باب میں بھی ایسی ہی روایت کی ہے کہ ہم متعہ کرتے رہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے شروع خلافت میں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا، حالانکہ متعہ کی حلت بالاجماع منسوخ ہے، اور جابر رضی اللہ عنہ کو اس کے نسخ کی اطلاع نہیں ہوئی، اسی طرح اس ممانعت کی بھی ان کو خبر نہیں ہوئی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح