بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پڑوس ہونے کی وجہ سے حق شفعہ کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: شفعہ کے احکام و مسائل باب: پڑوس ہونے کی وجہ سے حق شفعہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2494 سنن ابن ماجہ
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، هُشَيْمٌ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ يَنْتَظِرُ بِهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، اس کا انتظار کیا جائے گا اگر وہ موجود نہ ہو جب دونوں کا راستہ ایک ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/البیوع 75 (3518)، سنن الترمذی/الأحکام 32 (1369)، (تحفة الأشراف: 2434)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع 83 (2669) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2495 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، أَبِي رَافِعٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے نزدیکی مکان کا زیادہ حقدار ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الشفعة 2 (2258)، الحیل 14 (6977)، 15 (6981، 6978)، سنن ابی داود/البیوع 75 (3516)، سنن النسائی/البیوع 107 (4706)، (تحفة الأشراف: 12027)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/389، 390، 6/10، 390) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2496 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ لَيْسَ فِيهَا لِأَحَدٍ قِسْمٌ وَلَا شِرْكٌ إِلَّا الْجِوَارُ، قَالَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شرید بن سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک زمین ہے جس میں کسی کا حصہ نہیں اور نہ کوئی شرکت ہے، سوائے پڑوسی کے (تو اس کے بارے میں فرمائیے؟!) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنی نزدیکی زمین کا زیادہ حقدار ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2496]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/البیوع 107 (4707)، (تحفة الأشراف: 4840) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث اور اس حدیث میں بظاہر تعارض ہے، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ان دونوں میں تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شفعہ کی دو قسمیں ہیں: ایک شعفہ یہ ہے کہ مالک کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ شفیع پر پیش کرے، اور دوسروں پر اسے ترجیح دے، اور اس شفعہ پر قضاء میں وہ مجبور نہ کیا جائے، اور یہی اس پڑوسی کا حق ہے جو شریک نہیں ہے، اور دوسری قسم یہ ہے کہ اس شفعہ پر اسے قضاء میں مجبور کیا جائے گا، اور یہ اس پڑوسی کے حق میں ہے جو شریک بھی ہے، (حجۃ اللہ البالغۃ ۲/۱۱۳)۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: حسن صحيح