مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، مَسْلَمَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عُتْبَةَ بْنَ النُّدَّرِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ النُّدَّرِ ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ طسم حَتَّى إِذَا بَلَغَ قِصَّةَ مُوسَى قَالَ:" إِنَّ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آجَرَ نَفْسَهُ ثَمَانِيَ سِنِينَ أَوْ عَشْرًا عَلَى عِفَّةِ فَرْجِهِ وَطَعَامِ بَطْنِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے سورۃ «طسم» پڑھی، جب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو عفت و پاک دامنی اور خوراک کے عوض آٹھ یا دس سال تک مزدور بنایا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9759، ومصباح الزجاجة: 861) (ضعیف جدا)» (بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور مسلمہ بن علی منکرالحدیث ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1488)
وضاحت
۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اور یہ معلوم ہے کہ جب موسی علیہ السلام مصر سے بھاگ کر مدین میں پہنچے تو وہاں شعیب علیہ السلام کے نوکر ہوئے، اقرار یہ تھا کہ آٹھ یا دس برس تک عفت کے ساتھ ان کی خدمت کریں اور کھانا پیٹ بھر کھائیں، مدت کے بعد ایک بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا جائے یہ قصہ قرآن شریف میں تفصیل سے مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
مسلمة بن علي:متروك
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
الحكم: ضعيف جدا