بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل باب: اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2423 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَبَابَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ خَيْرَكُمْ أَوْ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہتر وہ ہے یا بہتر لوگوں میں سے وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوکالة 5 (2305)، 6 (2306)، الاستقراض 4 (2390)، 6 (2392)، 7 (2393)، 13 (2401)، الھبة 23 (2606)، 25 (2609)، صحیح مسلم/المساقاة 22 (1601)، سنن الترمذی/البیوع 75 (1316، 1317)، سنن النسائی/البیوع 62 (4622)، 101 (4697)، (تحفة الأشراف: 14963)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 373، 393، 416، 431، 456، 476، 509) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: قرض کا اچھی طرح ادا کرنا یہ ہے کہ قرض کے مال سے اچھا مال دے یا کچھ زائد دے یا قرض خواہ کا شکریہ ادا کرے، قرض میں زائد ادا کرنا مستحب ہے اور یہ منع نہیں ہے، منع وہ قرض ہے جس میں زیادہ دینے کی شرط ہو اور وہ سود ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2424 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَلَفَ مِنْهُ حِينَ غَزَا حُنَيْنًا ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَلَمَّا قَدِمَ قَضَاهَا إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْوَفَاءُ وَالْحَمْد".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن ابی ربیعہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے تیس یا چالیس ہزار قرض لیا، پھر جب حنین سے واپس آئے تو قرض ادا کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے اہل و عیال اور مال و دولت میں برکت دے، قرض کا بدلہ اس کو پورا کا پورا چکانا، اور قرض دینے والے کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الإستقراض 95 (4687)، (تحفة الأشراف: 5252)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/36) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں ابراہیم بن عبداللہ کے حالات غیر معروف ہیں، شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإراوء: 1388)
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن