أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مَنْصُورٍ ، زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ ، ابْنِ حُذَيْفَةَ هُوَ عِمْرَانُ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ ، عَنِ ابْنِ حُذَيْفَةَ هُوَ عِمْرَانُ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ ، قَالَت: كَانَتْ تَدَّانُ دَيْنًا، فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَهْلِهَا: لَا تَفْعَلِي وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، قَالَتْ: بَلَى، إِنِّي سَمِعْتُ نَبِيِّي وَخَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدَّانُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں تو ان کے گھر والوں میں سے کسی نے ان سے کہا: آپ ایسا نہ کریں، اور ان کے ایسا کرنے کو اس نے ناپسند کیا، تو وہ بولیں: کیوں ایسا نہ کریں، میں نے اپنے نبی اور خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو قرض لیتا ہو اور اللہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنا چاہتا ہے مگر اللہ اس کو دنیا ہی میں اس سے ادا کرا دے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/البیوع 97 (4690)، (تحفة الأشراف: 18077) (صحیح)» (حدیث میں «فِي الدُّنْيَا» کا لفظ ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 496)۔
وضاحت
۱؎: یعنی اس کی ادائیگی کا راستہ پیدا کرے گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح دون قوله في الدنيا
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4690)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 465
الحكم: صحيح دون قوله في الدنيا