بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اپنی اولاد کو عطیہ دینے اور ہبہ کرنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: ہبہ کے احکام و مسائل باب: اپنی اولاد کو عطیہ دینے اور ہبہ کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2375 سنن ابن ماجہ
أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: انْطَلَقَ بِهِ أَبُوهُ يَحْمِلُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" فَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي"، قَالَ:" أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَلَا إِذًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئے، اور عرض کیا: میں آپ کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے مال میں سے فلاں فلاں چیز نعمان کو دے دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسی ہی چیزیں دی ہیں جو نعمان کو دی ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تب میرے علاوہ کسی اور کو اس پر گواہ بنا لو، کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تمہارے سارے بیٹے تم سے نیک سلوک کرنے میں برابر ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تب ایسا مت کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الھبة 12 (2587)، صحیح مسلم/الھبات 3 (1623)، سنن ابی داود/البیوع 85 (3542)، سنن النسائی/النحل (3709)، (تحفة الأشراف: 11625)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 33 (39)، مسند احمد (4/268، 269، 270، 273، 276) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یہ صورت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اولاد کو عطیہ دینے میں سب کا حصہ برابر کا ہو گا، کم زیادہ ہو تو ہبہ باطل ہے مگر جمہور نے اس کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ سب کو برابر دینا مندوب ہے، عطیہ وہبہ میں کسی کو زیادہ دینے سے ہبہ باطل نہیں ہوتا لیکن ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ظلم کہا ہے اور نعمان کے والد بشیر سے آپ کا یہ فرمانا «فاردده» اسے واپس لے لو اس بات کی تائید کر رہا ہے کہ اولاد کے ساتھ عطیہ میں برابر کا سلوک واجب ہے، یہی احمد، سفیان ثوری اور اسحاق ابن راہویہ وغیرہ کا مذہب ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2376 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَاهُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ غُلَامًا وَأَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْهِدُهُ، فَقَالَ:" أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَارْدُدْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو ایک غلام دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسے ہی دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تب اس کو واپس لے لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الہبة 12 (2586)، صحیح مسلم/الہبات (1623)، سنن الترمذی/الأحکام 30 (1367)، سنن النسائی/النحل (3705)، (تحفة الأشراف: 11617، 11638) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح