هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَاهُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ غُلَامًا وَأَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْهِدُهُ، فَقَالَ:" أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَارْدُدْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو ایک غلام دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسے ہی دیا ہے“؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تب اس کو واپس لے لو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الہبة 12 (2586)، صحیح مسلم/الہبات (1623)، سنن الترمذی/الأحکام 30 (1367)، سنن النسائی/النحل (3705)، (تحفة الأشراف: 11617، 11638) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح