عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میرے زمانہ والے، پھر جو لوگ ان سے نزدیک ہوں، پھر وہ جو ان سے نزدیک ہوں، پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے اور قسم گواہی سے سبقت کر جائے گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الشہادات 9 (2652)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 52 (2533)، سنن الترمذی/المناقب 57 (3859)، (تحفة الأشراف: 9403)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 378، 417، 434، 438، 442) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے، ہر وقت ا س کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح