مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ ، نِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُصٍّ كَانَ بَيْنَهُمْ فَبَعَثَ حُذَيْفَةَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ فَقَضَى لِلَّذِينَ يَلِيهِمُ الْقِمْطُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ فَقَالَ:" أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ ایک جھونپڑی کے متعلق جو ان کے بیچ میں تھی جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جھونپڑی ان کی ہے جن سے رسی قریب ہے، پھر جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آئے، اور انہیں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک اور اچھا فیصلہ کیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 3181، ومصباح الزجاجة: 823) (ضعیف جدا)» (سند میں نمران بن جاریہ مجہول الحال، اور دھشم بن قران متروک راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
دهثم: ضعيف جدًا (الإصابة 218/1 ت 1048) وھو متروك (تقريب: 1831)
ونمران مجهول (تقريب: 7187)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
الحكم: ضعيف جدا