أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عُمَيْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: كَانَ مَوْلَايَ يُعْطِينِي الشَّيْءَ، فَأُطْعِمُ مِنْهُ، فَمَنَعَنِي، أَوْ قَالَ: فَضَرَبَنِي، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَأَلَهُ، فَقُلْتُ: لَا أَنْتَهِي أَوْ لَا أَدَعُهُ؟، فَقَالَ:" الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمیر مولی آبی اللحم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے مالک مجھے کوئی چیز دیتے تو میں اس میں سے اوروں کو بھی کھلا دیتا تھا تو انہوں نے مجھ کو ایسا کرنے سے روکا یا کہا: انہوں نے مجھے مارا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: یا اسی مالک نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: میں نے عرض کیا: میں اس سے باز نہیں آ سکتا، یا میں اسے چھوڑ نہیں سکتا (کہ مسکین کو کھانا نہ کھلاؤں) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں کو اس کا اجر ملے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الزکاة 26 (1025)، سنن النسائی/الزکاة 56 (2538)، (تحفة الأشراف: 10899) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح