بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی لینے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: تجارت کے احکام و مسائل باب: چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی لینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2262 سنن ابن ماجہ
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيُّ ، عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، سِمَاكٌ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَوْ سِمَاكٌ ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا سِمَاكًا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ فَكُنْتُ آخُذُ الذَّهَبَ مِنَ الْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ مِنَ الذَّهَبِ، وَالدَّنَانِيرَ مِنَ الدَّرَاهِمِ وَالدَّرَاهِمَ مِنَ الدَّنَانِيرِ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَخَذْتَ أَحَدَهُمَا وَأَعْطَيْتَ الْآخَرَ، فَلَا تُفَارِقْ صَاحِبَكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو میں چاندی (جو قیمت میں ٹھہرتی) کے بدلے سونا لے لیتا، اور سونا (جو قیمت میں ٹھہرتا) کے بدلے چاندی لے لیتا، اور دینار درہم کے بدلے، اور درہم دینار کے بدلے لے لیتا تھا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس سلسلے میں پوچھا کہ ایسا کرنا کیسا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم دونوں میں سے ایک لے لو اور دوسرا دیدے تو اپنے ساتھی سے اس وقت تک جدا نہ ہو جب تک کہ حساب صاف نہ ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/البیوع 14 (3354، 3355)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1242)، سنن النسائی/البیوع 48 (4586)، (تحفة الأشراف: 7053)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/33، 59، 89، 101، 139، 154)، سنن الدارمی/البیوع 43 (2623) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سماک بن حرب کے حفظ میں آخری عمر میں تبدیلی واقع ہو گئی تھی، اور کبھی رایوں کی تلقین قبول کر لیتے تھے اس لئے ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 132)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: ضعيف