مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ ، عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ وَهْبٍ ، الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ :" أَلَا نُقْرِئُكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى. فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا، فَإِذَا فِيهِ:" هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا، أَوْ أَمَةً لَا دَاءَ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ مجھ سے عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو وہ تحریر پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لیے لکھی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ ضرور سنائیں، تو انہوں نے ایک تحریر نکالی، میں نے جو دیکھا تو اس میں لکھا تھا: ”یہ وہ ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خریدا، عداء نے آپ سے ایک غلام یا ایک لونڈی خریدی، اس میں نہ تو کوئی بیماری ہے، نہ وہ چوری کا مال ہے، اور نہ وہ مال حرام ہے، مسلمان سے مسلمان کی بیع ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 19 (2078 تعلیقاً)، سنن الترمذی/ البیوع 8 (1216)، (تحفة الأشراف: 9848) (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن