عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، أَبِي ذَرٍّ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ"، فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا؟، قَالَ:" الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ وہ نامراد ہوئے اور بڑے نقصان میں پڑے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنا تہمد (لنگی) ٹخنے سے نیچے لٹکائے، اور جو دے کر احسان جتائے، اور جو اپنے سامان کو جھوٹی قسم کے ذریعہ رواج دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإیمان 46 (106)، سنن ابی داود/اللباس 28 (4087)، سنن الترمذی/البیوع 5 (1211)، سنن النسائی/الزکاة 69 (2564)، البیوع 5 (4463)، الزینة من المجتبیٰ 50 (5335)، (تحفة الأشراف: 11909)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/148، 158، 162، 168، 178)، سنن الدارمی/البیوع 63 (2647) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح