بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نافرمانی (گناہ) کی نذر ماننے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل باب: نافرمانی (گناہ) کی نذر ماننے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2124 سنن ابن ماجہ
أَبُو سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَمِّهِ ، عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا نَذْرَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: معصیت (گناہ) میں نذر نہیں ہے، اور نہ اس میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/النذر 3 (1641)، سنن ابی داود/الأیمان 28 (3316)، سنن النسائی/الأیمان 30 (3843)، 41 (3880)، (تحفة الأشرف: 10884، 10888)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/429، 434) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: مثلاً دوسرے کے غلام آزاد کرنے کی نذر کرے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2125 سنن ابن ماجہ
أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ أَبُو طَاهِرٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ أَبُو طَاهِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: معصیت (گناہ) میں نذر نہیں ہے، اور ایسی نذر کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الأیمان 22 (3290، 3291)، سنن الترمذی/الایمان 2 (1524)، سنن النسائی/الأیمان 40 (3865)، (تحفة الأشراف: 17770)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان 28 (6696)، 31 (6700)، موطا امام مالک/النذور4 (8)، مسند احمد (6/36، 41، 224)، سنن الدارمی/النذور 3 (2383) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2126 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانی ہو وہ اس کی اطاعت کرے، اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانی ہو تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان والنذور 28 (6696)، 31 (6700)، سنن ابی داود/الإیمان والنذور 22 (3289)، سنن الترمذی/النذور الإیمان 2 (1526)، سنن النسائی/الإیمان والنذور 26 (3837)، 27 (3838، 3839)، (تحفة الأشراف: 17458)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النذور (8)، مسند احمد (6/36، 41، 224، سنن الدارمی/النذور 3 (2383) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: آیت کریمہ: «يُوفُونَ بِالنَّذْرِ» (سورة الإنسان: 7) سے مراد یہی اطاعت کی نذر ہے، طبری نے باسناد صحیح قتادہ سے آیت کریمہ: «يُوفُونَ بِالنَّذْرِ» کی تفسیر نقل کی ہے کہ اگلے لوگ صوم، صلاۃ، زکاۃ، حج و عمرہ اور فرائض کی نذر کرتے تھے، تو اللہ تعالی نے ان کو «ابرار» کہا، اور احمد، ابوداود نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نذر صرف وہی ہے جس سے اللہ تعالی کی رضامندی مطلوب ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح