بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قسم میں ان شاءاللہ کہنے کے حکم کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل باب: قسم میں ان شاءاللہ کہنے کے حکم کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2104 سنن ابن ماجہ
الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَلَهُ ثُنْيَاهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم کھائی، اور «إن شاء الله» کہا، تو اس کا «إن شاء الله» کہنا اسے فائدہ دے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الأیمان والنذور 7 (1532)، سنن النسائی/الإیمان والنذور 42 (3886)، (تحفة الأشراف: 13523)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/309) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: فائدہ یہ ہو گا کہ اگر قسم کے خلاف بھی کرے تو کفارہ لازم نہ ہو گا، اور آدمی جھوٹا نہ ہو گا، اس لئے کہ اس کی قسم اللہ تعالی ہی کی مشیت پر معلق تھی، معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے ایسا نہ چاہا تو اس نے قسم کے خلاف عمل کیا، یہ قسم کے کفارے سے بچنے کا عمدہ طریقہ ہے، صحیحین میں ہے کہ سلیمان بن داود (علیہما الصلاۃ والسلام) نے فرمایا: میں آج کی رات ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا، اخیر حدیث تک، اس میں یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو ان کی بات غلط نہ ہوتی، اور جمہور کا مذہب ہے کہ جب قسم میں «إن شاء الله» لگا دے تو وہ منعقد نہ ہو گی، یعنی توڑنے میں کفارہ واجب نہ ہو گا، لیکن شرط یہ ہے کہ «إن شاء الله» قسم کے ساتھ ہی کہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2105 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ وَاسْتَثْنَى إِنْ شَاءَ رَجَعَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرُ حَانِثٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم کھائی، اور «إن شاء الله» کہا، تو وہ چاہے قسم کے خلاف کرے، یا قسم کے موافق، حانث یعنی قسم توڑنے والا نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأیمان والنذور 11 (3261، 3262)، سنن الترمذی/الأیمان والنذور 7 (1531)، سنن النسائی/الأیمان 18 (3824)، 39 (3859)، (تحفة الأشراف: 7517)، موطا امام مالک/النذ ور 6 (10)، مسند احمد (2/6، 10، 48، 153)، سنن الدارمی/النذور 7 (2388) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2106 سنن ابن ماجہ
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رِوَايَةً، قَالَ:" مَنْ حَلَفَ وَاسْتَثْنَى، فَلَنْ يَحْنَثْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے قسم کھائی اور «إن شاء الله» کہا، وہ حانث یعنی قسم توڑنے والا نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«أنظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7517) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح