بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کیا شوہر کے علاوہ عورت دوسرے لوگوں کا سوگ منا سکتی ہے؟
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طلاق کے احکام و مسائل باب: کیا شوہر کے علاوہ عورت دوسرے لوگوں کا سوگ منا سکتی ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2085 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے سوا کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الطلاق 9 (1491)، سنن النسائی/الطلاق 58 (3555)، (تحفة الأشراف: 16441)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 35 (104)، مسند احمد (6/37، 148، 249)، سنن الدارمی/الطلاق 12 (2329) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2086 سنن ابن ماجہ
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، نَافِعٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الطلاق 9 (1490)، سنن النسائی/الطلاق 55 (3533)، (تحفة الأشراف: 15817)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 35 (104)، مسند احمد (6/184، 286، 287) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2087 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، حَفْصَةَ ، أُمِّ عَطِيَّةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا امْرَأَةٌ تُحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَطَيَّبُ إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ نہ منایا جائے البتہ بیوی اپنے شوہر پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے، رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، ہاں رنگین بنی ہوئی چادر اوڑھ سکتی ہے، سرمہ اور خوشبو نہ لگائے، مگر حیض سے پاکی کے شروع میں تھوڑا سا قسط یا اظفار (خوشبو) لگا لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 12 (1313، الجنائز 30 (1278)، الطلاق 47 (5339)، 49 (5342)، صحیح مسلم/الطلاق 9 (938)، سنن ابی داود/الطلاق 46 (2302، 2303)، سنن النسائی/الطلاق 64 (3564)، 65 (3566)، (تحفة الأشراف: 18134)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/65، 85، 408)، سنن الدارمی/ الطلاق 13 (2332) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: شرم گاہ کی بدبو دور کرنے کے لئے تھوڑا سا خوشبو استعمال کر سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح