بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آزاد ہو جانے کے بعد لونڈی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہے یا نہ رہے۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طلاق کے احکام و مسائل باب: آزاد ہو جانے کے بعد لونڈی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہے یا نہ رہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 2074 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّهَا أَعْتَقَتْ بَرِيرَةَ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهَا زَوْجٌ حُرٌّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو اختیار دے دیا، (کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہیں یا اس سے جدا ہو جائیں) اور ان کے شوہر آزاد تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2074]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الرضاع 7 (1154)، (تحفة الأشراف: 15959)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق 10 (2536)، سنن ابی داود/الطلاق 20 (2235)، سنن النسائی/الزکاة 99 (2615)، الطلاق 30 (3480)، موطا امام مالک/الطلاق 10 (25)، مسند احمد (6/46، 115، 123، 172، 175، 178، 191، 207)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2337) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: آزادی کے بعد پہلا نکاح باقی رکھے یا نہ رکھے، لیکن یہ جب ہے کہ اس کا شوہر غلام ہو، اگر شوہر آزاد ہو تو اختیار نہ ہو گا، امام مالک، شافعی اور جمہور علماء کا یہی قول ہے اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ ہر حال میں اختیار ہو گا، اور اس باب میں مختلف احادیث وارد ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح دون قوله حر والمحفوظ عبد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2235) ترمذي (1155)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 453
الحكم: صحيح دون قوله حر والمحفوظ عبد
حدیث نمبر: 2075 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا، يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا وَيَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى خَدِّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ:" يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ رَاجَعْتِيهِ، فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَأْمُرُنِي، قَالَ:" إِنَّمَا أَشْفَعُ"، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا اس کو مغیث کہا جاتا تھا، گویا کہ میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے پھر رہا ہے، اور رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کے گالوں پہ بہہ رہے ہیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عباس رضی اللہ عنہ سے فرما رہے ہیں: عباس! کیا تمہیں بریرہ سے مغیث کی محبت اور مغیث سے بریرہ کی نفرت پہ تعجب نہیں ہے؟ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کاش تو مغیث کے پاس لوٹ جاتی، وہ تیرے بچے کا باپ ہے، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہا: نہیں، میں صرف سفارش کر رہا ہوں، تو وہ بولی: مجھے مغیث کی کوئی ضرورت نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2075]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الطلاق 15 (5282)، 16 (5283)، سنن ابی داود/الطلاق 19 (2231)، سنن الترمذی/الرضاع 7 (1154)، سنن النسائی/آداب القضاء 27 (5419)، (تحفة الأشراف: 6048)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2338) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2076 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: مَضَى فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ خُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ، وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا وَكَانُوا يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا، فَتُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ:" هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ، وَقَالَ: الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ میں تین سنتیں سامنے آئیں ایک تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا، اور ان کے شوہر غلام تھے، دوسرے یہ کہ لوگ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ دیا کرتے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہدیہ کر دیتیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے: وہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے، تیسرے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کے سلسلہ میں فرمایا: حق ولاء (غلام یا لونڈی کی میراث) اس کا ہے جو آزاد کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2076]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17432)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق 10 (2536)، الأطعمة 31 (5430)، الفرائض 20 (6760)، 22 (6754)، 23 (6759)، سنن ابی داود/الفرائض 12 (2916)، سنن الترمذی/البیوع 33 (2126)، الولاء 1 (2125)، سنن النسائی/الطلاق 30 (3479)، موطا امام مالک/الطلاق10 (25)، مسند احمد (6/42، 170، 180، 186، 209)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2336) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: جب بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکوں نے ولاء (حق وراثت) لینا چاہا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء (حق وراثت) اسی کو ملے گا جو آزاد کرے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 2077 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" أُمِرَتْ بَرِيرَةُ، أَنْ تَعْتَدَّ بِثَلَاثِ حِيَضٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزاریں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2077]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16002، ومصباح الزجاجة: 731) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2078 سنن ابن ماجہ
إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ بَرِيرَةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا (کہ وہ اپنے شوہر مغیث کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13590، ومصباح الزجاجة: 732) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح