أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، فَقَالَ أَنَسٌ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِيَّ حَاجَةٌ؟، فَقَالَتِ ابْنَتُهُ: مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا، قَالَ:" هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثابت کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے، ان کے پاس ان کی ایک بیٹی تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور خود کو آپ پر پیش کیا اور بولی: کیا آپ کو میری حاجت ہے؟ یہ سن کر انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولی: اس کو کتنی کم حیاء ہے! اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تجھ سے بہتر ہے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں رغبت کی، اس لیے خود کو آپ پر پیش کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/النکاح 32 (5120)، الأدب 79 (6123)، سنن النسائی/النکاح 25 (3251)، (تحفة الأشراف: 468) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح بخاري