بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نکاح کرانے کے لیے سفارش کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: نکاح کرانے کے لیے سفارش کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1975 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ، مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، أَبِي رُهْمٍ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ أَفْضَلِ الشَّفَاعَةِ، أَنْ يُشَفَّعَ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ فِي النِّكَاحِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابورہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر سفارش یہ ہے کہ مرد اور عورت کے نکاح کی سفارش کی جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1975]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12038، ومصباح الزجاجة: 699) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابو رہم سمعی مخضرم اور ثقہ ہیں، اس لئے ارسال کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
معاوية بن يحيي الصدفي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 1976 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَرِيكٌ ، الْعَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ ، الْبَهِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: عَثَرَ أُسَامَةُ بِعَتَبَةِ الْبَابِ فَشُجَّ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمِيطِي عَنْهُ الْأَذَى فَتَقَذَّرْتُهُ، فَجَعَلَ يَمُصُّ عَنْهُ الدَّمَ وَيَمُجُّهُ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَحَلَّيْتُهُ، وَكَسَوْتُهُ حَتَّى أُنَفِّقَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسامہ رضی اللہ عنہ دروازہ کی چوکھٹ پر گر پڑے، جس سے ان کے چہرے پہ زخم ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ان سے خون صاف کرو، میں نے اسے ناپسند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے زخم سے خون نچوڑنے اور ان کے منہ سے صاف کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر اسامہ لڑکی ہوتا تو میں اسے زیورات اور کپڑوں سے اس طرح سنوارتا کہ اس کا چرچا ہونے لگتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1976]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16296، ومصباح الزجاجة: 700)، وقد أخرجہ: 6/139، 222) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کو زیور اور لباس سے آراستہ کرنا جائز ہے بلکہ نکاح کے وقت مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
شريك عنعن
وتابعه مجالد وھو ضعيف
وفي سماع البهي من عائشة رضي اﷲ عنها كلام وللحديث شاهد مرسل عند ابن سعد (62/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
الحكم: صحيح