بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر وارد وعید کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر وارد وعید کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1934 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو عَامِرٍ ، زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ ، سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6098، ومصباح الزجاجة: 689) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1897)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1935 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، ابْنِ عَوْنٍ ، وَمُجالِدٌ ، الشَّعْبِيِّ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، وَمُجالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/النکاح 15 (2076، 2077)، سنن الترمذی/النکاح 27 (1119)، (تحفة الأشراف: 10034)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/83، 87، 107، 121، 150، 158) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: «محلل» (حلالہ کرنے والا) وہ شخص ہے جو طلاق دینے کی نیت سے مطلقہ ثلاثہ سے نکاح و مباشرت کرے اور «محلل لہ» (جس کے لیے حلالہ کیا جائے) سے پہلا شوہر مراد ہے جس نے تین طلاقیں دیں، یہ حدیث دلیل ہے کہ حلالہ کی نیت سے نکاح باطل اور حرام ہے کیونکہ لعنت حرام فعل ہی پر کی جاتی ہے، جمہور اس کی حرمت کے قائل ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2076) ترمذي (1119)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1936 سنن ابن ماجہ
يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَبِي ، اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، أَبُو مُصْعَبٍ مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ: قَالَ لِي أَبُو مُصْعَبٍ مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" هُوَ الْمُحَلِّلُ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو «مستعار» (مانگے ہوئے) بکرے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت کی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9968، ومصباح الزجاجة: 690) (حسن)» ‏‏‏‏ (ابو مصعب میں کلام ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 6/ 309- 310)
وضاحت
۱؎: شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس باب میں «إقامة الدليل على إبطال التحليل» نامی کتاب تصنیف فرمائی ہے، علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: نکاح حلالہ کسی ملت میں مباح نہیں ہوا، اور نہ اسے کسی صحابی نے کیا اور نہ اس کا فتوی دیا، افسوس ہے اس زمانہ میں لوگ حلالہ کا نکاح کرتے ہیں، اور وہ عورت جو حلالہ کراتی ہے گویا دو آدمیوں سے زنا کراتی ہے، ایک حلالہ کرنے والے سے، دوسرے پھر اپنے پہلے شوہر سے، اللہ تعالی اس آفت سے پناہ میں رکھے۔ آمین
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن