مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، الْفِرْيَابِيُّ ، ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ التَّمِيمِيِّ ، لَيْثٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَسَمِعَ صَوْتَ طَبْلٍ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، ثُمَّ تَنَحَّى حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا انہوں نے طبلہ کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں، اور وہاں سے ہٹ گئے یہاں تک کہ ایسا تین مرتبہ کیا، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7407، ومصباح الزجاجة: 678) (صحیح)» (یہ «زمارة راع» کے لفظ سے صحیح ہے، اور اس میں «طبل» کا ذکر منکر ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح بلفظ زمارة راع
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ليث: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
الحكم: صحيح بلفظ زمارة راع