بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ایک شخص نے شادی کی لیکن عورت کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی مر گیا تو اس عورت کا حکم کیا ہو گا؟
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: ایک شخص نے شادی کی لیکن عورت کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی مر گیا تو اس عورت کا حکم کیا ہو گا؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1891 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، فِرَاسٍ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا؟، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَهَا الصَّدَاقُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ :" شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی، اور مہر کی تعین اور دخول سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے کہا: اس عورت کو مہر ملے گا، اور میراث سے حصہ ملے گا، اور اس پہ عدت بھی لازم ہو گی، تو معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے سلسلہ میں ایسے ہی فیصلہ کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/النکاح 32 (2114، 2115)، سنن الترمذی/النکاح 43 (1145)، سنن النسائی/النکاح 68 (3358)، الطلاق 57 (3554)، (تحفة الأشراف: 11461)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/447، 3/480، 4/280)، سنن الدارمی/النکاح 47 (2292) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یہ روایت مختصر ہے، بعض حدیثوں میں یوں ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس عورت کو مہر مثل ملے گا، یعنی اس کے کنبے کی عورتوں کا جو مہر ہو گا وہی اس کو دلایا جائے گا، نہ کم اور نہ زیادہ، پھر معقل رضی اللہ عنہ نے گواہی دی تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نہایت خوش ہوئے کہ ان کا فیصلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کے مطابق ہوا، علامہ ابن القیم نے کہا کہ اس فتوے کے معارض کوئی فتوی نہیں تو اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح