بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نکاح شغار کی ممانعت۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: نکاح شغار کی ممانعت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1883 سنن ابن ماجہ
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنَ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ، أَوْ زوجني أُخْتَكَ عَلَى أَنْ أُزَوِّجَكَ ابْنَتِي، أَوْ أُخْتِي، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ اور شغار یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی سے کہے: آپ اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح مجھ سے اس شرط پر کر دیں کہ میں اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح تجھ سے کر دوں گا، اور ان دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/النکاح 28 (5109)، الحیل 4 (6960)، صحیح مسلم/النکاح 7 (1415)، سنن ابی داود/النکاح 15 (2074)، سنن الترمذی/النکاح 30 (1164)، سنن النسائی/النکاح 61 (3339)، (تحفة الأشراف: 8323)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 11 (24)، مسند احمد (2/7، 19، 62)، سنن الدارمی/النکاح 9 (2226) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: بلکہ ہر ایک جانب مہر یہی ہو کہ دوسرے کی بیٹی یا بہن یہ حاصل کرے، ابن عبدالبر نے کہا یہ نکاح باجماع علماء ناجائز ہے لیکن اختلاف ہے کہ یہ نکاح صحیح ہے یا نہیں، جمہور اس کو باطل کہتے ہیں، اور شافعی نے کہا یہ نکاح مثل نکاح متعہ کے باطل ہے، اور ابوحنیفہ نے کہا نکاح صحیح ہو جائے گا، اور ہر ایک پر مہر مثل لازم ہو گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1884 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/النکاح 7 (1416)، سنن النسائی/النکاح 61 (3340)، (تحفة الأشراف: 13796)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/286، 439، 496) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1885 سنن ابن ماجہ
الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 498، ومصباح الزجاجة: 673)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/162) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح