بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: باپ بیٹی کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر کر دے تو اس کے حکم کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: باپ بیٹی کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر کر دے تو اس کے حکم کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1873 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّيْنِ، أَخْبَرَاهُ:" أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ، فَكَرِهَتْ نِكَاحَ أَبِيهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ، فَرَدَّ عَلَيْهَا نِكَاحَ أَبِيهَا، فَنَكَحَتْ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، وَذَكَرَ يَحْيَى أَنَّهَا كَانَتْ ثَيِّبًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن یزید انصاری اور مجمع بن یزید انصاری رضی اللہ عنہما خبر دیتے ہیں کہ خذام نامی ایک شخص نے اپنی بیٹی (خنساء) کا نکاح کر دیا، اس نے اپنے باپ کا کیا ہوا نکاح ناپسند کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے اس کے والد کا کیا ہوا نکاح فسخ کر دیا، پھر اس نے ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ سے شادی کی۔ یحییٰ بن سعید نے ذکر کیا کہ وہ ثیبہ (غیر کنواری) تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1873]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/النکاح 42 (5138، 5139)، الإکراہ 3 (1945)، الحیل 11 (6969)، سنن ابی داود/النکاح 26 (2101)، سنن النسائی/النکاح 35 (3270)، (تحفة الأشراف: 15824)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 14 (25)، مسند احمد (6/328)، سنن الدارمی/النکاح 4 1 (3237) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1874 سنن ابن ماجہ
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَكِيعٌ ، كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ بِي خَسِيسَتَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ، أَنْ لَيْسَ إِلَى الْآبَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نوجوان عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی عرض کیا: میرے والد نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کر دیا ہے، تاکہ میری وجہ سے اس کی ذلت ختم ہو جائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت کو اختیار دے دیا، تو اس نے کہا: میرے والد نے جو کیا میں نے اسے مان لیا، لیکن میرا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے باپوں کو ان پر (جبراً نکاح کر دینے کا) اختیار نہیں پہنچتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1874]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1997، ومصباح الزجاجة: 668) (ضعیف شاذ) (غایة المرام: 217)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
ضعيف شاذ
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: ضعيف شاذ
حدیث نمبر: 1875 سنن ابن ماجہ
أَبُو السَّقْرِ يَحْيَى بْنُ يَزْدَادَ الْعَسْكَرِيُّ ، الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَذِيُّ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو السَّقْرِ يَحْيَى بْنُ يَزْدَادَ الْعَسْكَرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَذِيُّ ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے عرض کیا: اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا حالانکہ وہ راضی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اختیار دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1875]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/النکاح 25 (2096، 2097)، (تحفة الأشراف: 6001)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/273) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح