بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کنواری اور غیر کنواری دونوں سے شادی کی اجازت لینے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: کنواری اور غیر کنواری دونوں سے شادی کی اجازت لینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1870 سنن ابن ماجہ
إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، مَالِكُ بْنُ أَنسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَن ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا"، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي أَنْ تَتَكَلَّمَ، قَالَ:" إِذْنُهَا سُكُوتُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری عورت سے نکاح کے سلسلے میں اجازت طلب کی جائے گی، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کنواری بولنے سے شرم کرے گی تو آ پ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/النکاح 9 (1421)، سنن ابی داود/النکاح 26 (2098)، سنن الترمذی/النکاح 17 (1108)، سنن النسائی/النکاح 31 (3262)، (تحفة الأشراف: 6517)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 2 (3)، مسند احمد (1/219، 242، 274، 354، 362)، سنن الدارمی/النکاح 13 (2234) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1871 سنن ابن ماجہ
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری عورت کا نکاح اس کی واضح اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس سے اجازت لے کر کیا جائے، اور کنواری کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/النکاح 9 (1419)، سنن الترمذی/النکاح 17 (1107)، (تحفة الأشراف: 15384)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 42 (5136)، الحیل 11 (6968، 6970)، سنن النسائی/النکاح 33 (3267)، مسند احمد (2/221، 250، 425، 434، سنن الدارمی/النکاح 13 (2232) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1872 سنن ابن ماجہ
عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الثَّيِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِهَا، وَالْبِكْرُ رِضَاهَا صَمْتُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عدی کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری عورت اپنی رضا مندی صراحۃً ظاہر کرے، اور کنواری کی رضا مندی اس کی خاموشی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9882، ومصباح الزجاجة: 667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/192) (صحیح) (عدی کندی کا اپنے والد عدی بن عمرہ سے سماع نہیں ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ثیّبہ کا چپ ہو جانا کافی نہیں بلکہ زبان سے ہوں یا ہاں کہنا چاہئے، مراد یہاں کنواری اور ثیبہ سے وہ لڑکی ہے جو جوان اور بالغ ہو گئی ہو، لیکن جو نابالغ ہو اس سے اجازت لینا ضروری نہیں بلکہ ولی کی اجازت کافی ہے، جیسے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نکاح کر دیا تھا، اس وقت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر صرف چھ برس کی تھی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عدي بن عدي لم يسمع من أبيه كما قال أبو حاتم الرازي (كتاب المراسيل ص 152)
و الحديث السابق (1870) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
الحكم: صحيح