بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مالدار ہوتے ہوئے (بلا ضرورت) مانگنے پر وارد وعید کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل باب: مالدار ہوتے ہوئے (بلا ضرورت) مانگنے پر وارد وعید کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1838 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرَ جَهَنَّمَ، فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ، أَوْ لِيُكْثِرْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگا، تو وہ جہنم کے انگارے مانگتا ہے، چاہے اب وہ زیادہ مانگے یا کم مانگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1838]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الزکاة 35 (1041)، (تحفة الأشراف: 14910)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/331) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1839 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي حُصَيْنٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ و خیرات کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحت مند آدمی کے لیے حلال نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1839]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الزکاة 90 (2598)، (تحفة الأشراف: 12910)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/377، 389) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1840 سنن ابن ماجہ
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، جَاءَتْ مَسْأَلَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُدُوشًا، أَوْ خُمُوشًا، أَوْ كُدُوحًا فِي وَجْهِهِ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ؟، قَالَ:" خَمْسُونَ دِرْهَمًا، أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ"، فَقَالَ رَجُلٌ لِسُفْيَانَ: إِنَّ شُعْبَةَ لَا يُحَدِّثُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ سُفْيَانُ: قَدْ حَدَّثَنَاهُ زُبَيْدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو، تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پہ زخم کا نشان بن کر آئے گا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کتنا مال آدمی کو بے نیاز کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کی مالیت کا سونا ۱؎۔ ایک شخص نے سفیان ثوری سے کہا: شعبہ تو حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے؟ سفیان ثوری نے کہا کہ یہ حدیث ہم سے زبید نے بھی محمد بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے روایت کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1840]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الزکاة 23 (1626)، سنن الترمذی/الزکاة 22 (650)، سنن النسائی/الزکاة 87 (2593)، (تحفة الأشراف: 9387)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 441)، سنن الدارمی/الزکاة 5 1 (1680) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ابوداود کی روایت میں ہے: «غنا» کی حد یہ ہے کہ آدمی کے پاس صبح و شام کا کھانا ہو، اور ایک روایت میں ہے کہ ایک اوقیہ کا مالک ہو، اور اس روایت میں پچاس درہم مذکور ہے، شافعی نے دوسرے قول کو لیا ہے اور احمد اور اسحاق اور ابن مبارک نے پہلے قول کو، بعض لوگوں نے تیسرے قول کو اور ابوحنیفہ نے کہا جو دو سو درہم کا مالک ہے یا اس قدر مالیت کا اسباب اس کے پاس ہے اس کے لیے سوال صحیح نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1626) ترمذي (650،651) نسائي (2593)
قزعة بن سويد: ضعيف (تقدم: 1455)
والحديث السابق (الأصل: 1454) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 445
الحكم: صحيح