عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَتَقَبَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ، وَأَتَقَبَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ"، قُلْتُ: أَنَا، قَالَ:" لَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا"، قَالَ: فَكَانَ ثَوْبَانُ يَقَعُ سَوْطُهُ وَهُوَ رَاكِبٌ، فَلَا يَقُولُ لِأَحَدٍ نَاوِلْنِيهِ، حَتَّى يَنْزِلَ فَيَأْخُذَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کون میری ایک بات قبول کرتا ہے؟ اور میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں“، میں نے عرض کیا: میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو“، چنانچہ ثوبان رضی اللہ عنہ جب سواری پر ہوتے اور ان کا کوڑا نیچے گر جاتا تو کسی سے یوں نہ کہتے کہ میرا کوڑا اٹھا دو، بلکہ خود اتر کر اٹھاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الزکاة 86 (2591)، (تحفة الأشراف: 2098)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة 27 (1643)، مسند احمد (5/275، 276، 279) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ ایمان و توکل علی اللہ کا بڑا اعلیٰ درجہ ہے حالانکہ اس قسم کا سوال مباح اور جائز ہے، مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان بڑی تھی انہوں نے مخلوق سے مطلقاً سوال ہی چھوڑ دیا، صرف خالق سے سوال کرنے ہی کو بہتر سمجھا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ:
الحكم: صحيح