أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکاۃ نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الزکاة 45 (1463)، 46 (1464)، صحیح مسلم/الزکاة 2 (982)، سنن ابی داود/الزکاة 11 (1594، 1595)، سنن الترمذی/الزکاة 8 (628)، سنن النسائی/الزکاة 16 (2369)، (تحفة الأشراف: 14153)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 23 (37)، مسند احمد (2/242، 249، 254، 279، 410، 420، 432، 454، 469، 470)، سنن الدارمی/الزکاة 10 (1672) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو غلام، لونڈی اور گھوڑوں میں زکاۃ کو واجب نہیں کہتے، اور بعضوں نے کہا: اس حدیث میں گھوڑوں سے مراد غازی اور مجاہد کا گھوڑا ہے، جیسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، اور بعض نے کہا: اگر گھوڑے جنگل میں چرتے ہوں اور ان میں نر اور مادہ دونوں ہوں تو ان کے مالک کو اختیار ہے خواہ ہر گھوڑے کے بدلے ایک دینار زکاۃ دے یا جملہ گھوڑوں کی قیمت لگا کر اس کا چالیسواں حصہ دے، ایسا ہی عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، امام ابوحنیفہ کا بھی یہی قول ہے، لیکن صاحبین اور جمہور علماء اور ائمہ اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ گھوڑے، غلام اور لونڈی میں مطلقاً زکاۃ نہیں ہے اور یہی صحیح ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح