بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عشرہ ذی الحجہ کا روزہ۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صیام کے احکام و مسائل باب: عشرہ ذی الحجہ کا روزہ۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1728 سنن ابن ماجہ
عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ ، مَسْعُودُ بْنُ وَاصِلٍ ، النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ ، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ وَاصِلٍ ، عَنِ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَيَّامٌ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ، وَإِنَّ صِيَامَ يَوْمٍ فِيهَا لَيَعْدِلُ صِيَامَ سَنَةٍ، وَلَيْلَةٍ فِيهَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دنیا کے کسی دن میں عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند نہیں جتنا کہ ان دس دنوں میں ہے، اور ان میں ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے، اور ان میں ایک رات شب قدر (قدر کی رات) کے برابر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الصوم 52 (758)، (تحفة الأشراف: 13098) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (نہاس بن قہم قوی نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (758)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 1729 سنن ابن ماجہ
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ الْعَشْرَ قَطُّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان دس دنوں میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16001)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الاعتکاف 4 (1176)، سنن ابی داود/الصوم 62 (2439)، سنن الترمذی/الصوم 51 (756)، مسند احمد (6/ 42، 124، 190) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں، یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ ان نو دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے، خاص کر عرفہ کے دن کے روزے کی بڑی فضیلت آئی ہے، ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے کبھی روزہ نہ رکھا ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح