بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: افطار کرنے میں جلدی کرنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صیام کے احکام و مسائل باب: افطار کرنے میں جلدی کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1697 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِيهِ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْإِفْطَارَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، ہمیشہ خیر میں رہیں گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 9 (1098)، (تحفة الأشراف: 4722)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 45 (1957)، سنن الترمذی/الصوم 13 (699)، موطا امام مالک/الصیام 3 (6)، سنن الدارمی/الصوم 11 (1741) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی سورج ڈوبنے کے بعد روزہ کھولنے میں دیر نہ کریں گے تو ہمیشہ خیر میں رہیں گے، یہ مطلب نہیں ہے کہ وقت سے پہلے ہی روزہ کھول دیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1698 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ، عَجِّلُوا الْفِطْرَ فَإِنَّ الْيَهُودَ يُؤَخِّرُونَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ہمیشہ خیر میں رہیں گے، تم لوگ افطار میں جلدی کرو اس لیے کہ یہود اس میں دیر کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15090، ومصباح الزجاجة: 614)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم20 (2353)، مسند احمد (2/450) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح