بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سحری دیر سے کھانے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صیام کے احکام و مسائل باب: سحری دیر سے کھانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1694 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ:" تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ"، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟، قَالَ:" قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سحری اور نماز کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ کہا: پچاس آیتیں پڑھنے کی مقدار ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/المواقیت 27 (575)، الصوم 19 (1921)، صحیح مسلم/الصوم 9 (1097)، سنن الترمذی/الصوم 14 (703، 704)، سنن النسائی/الصوم 11 (2157)، (تحفة الأشراف: 3696)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/182، 185، 86ا، 188، 192، سنن الدارمی/الصوم 8 (1737) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی جتنی دیر میں پچاس آیتیں پڑھی جائیں، اس حدیث سے صاف نکلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سحری صبح صادق کے قریب کھاتے تھے اتنا کہ سحری سے فارغ ہو کر نماز فجر کو کھڑے ہوتے، جس کو صبح صادق کی پہچان ہو، اس کے لیے ایسا ہی کرنا سنت ہے، اگر یہ نہ ہو تو صبح سے پاؤ گھنٹہ یا آدھا گھنٹہ پہلے سحری سے فارغ ہو، یہ نہیں کہ آدھی رات کو یا ایک بجے یا دو بجے سحری کرے جیسے ہمارے زمانہ کے عوام کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 1695 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ:" تَسَحَّرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ النَّهَارُ، إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سحری فجر کے طلوع ہو جانے کے وقت کھائی، لیکن ابھی طلوع نہیں ہوئی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الصوم 10 (2154)، (تحفة الأشراف: 3325)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/396، 400) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1696 سنن ابن ماجہ
يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ لِيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ، وَلِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ، وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَلَكِنْ هَكَذَا يَعْتَرِضُ فِي أسْفَلِ َالسَّمَاءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے نہ روکے، وہ اذان اس لیے دیتے ہیں کہ تم میں سونے والا (سحری کھانے کے لیے) جاگ جائے، اور قیام (یعنی تہجد پڑھنے) والا اپنے گھر چلا جائے، اور فجر اس طرح سے نہیں ہے، بلکہ اس طرح سے ہے کہ وہ آسمان کے کنارے عرض (چوڑان) میں ظاہر ہوتی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 13 (621)، الطلاق 24 (5298)، أخبارالآحاد 1 (7247)، صحیح مسلم/الصوم 8 (1092)، سنن ابی داود/الصوم 17 (2347)، سنن النسائی/الأذان 11 (642)، (تحفة الأشراف: 9375)، مسند احمد (1/386، 392، 435) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اور جو لمبی دھاری بھیڑئے کی دم کی طرح آسمان پر ظاہر ہوتی ہے وہ صبح کاذب ہے اس کا اعتبار نہیں ہے، اس وقت کھانا پینا جائز ہے، یہاں تک کہ صبح صادق ظاہر ہو جائے جو مشرق (پورب) کی طرف آسمان کے کنارے عرض (لمبائی) میں ظاہر ہوتی ہے، یہ سورج کی روشنی ہے اسی کو پو پھٹنا کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح