عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو إِسْمَاعِيل الْمُؤَدِّبُ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل الْمُؤَدِّبُ ، عَنِ مُجَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ خَيْرِ خِصَالِ الصَّائِمِ السِّوَاكُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”روزے دار کی اچھی عادتوں میں سے مسواک کرنا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17630، ومصباح الزجاجة: 607) (ضعیف)» (اس کی سند میں مجالد ضعیف ہیں)
وضاحت
۱؎: روزے دار کے لئے مسواک کرنا مکروہ نہیں ہے، کسی بھی وقت میں ہو، شروع دن میں یا اخیر دن میں، بلکہ سنت ہے، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، بعض لوگوں نے زوال کے بعد مسواک کرنا مکروہ سمجھا ہے اس وجہ سے کہ اس کے ذریعہ منہ کی بو ختم ہو جائے گی، جس کی فضیلت حدیث میں آئی ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ اس بو کا تعلق منہ سے نہیں، بلکہ معدہ سے ہے، جو معدہ کے خالی ہونے کی حالت میں پیدا ہوتی ہے اسی کو عربی میں «خلوف» کہتے ہیں جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
مجالد: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440
الحكم: ضعيف