بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: (مصیبت کے وقت) منہ پیٹنا اور گریبان پھاڑنا منع ہے۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل باب: (مصیبت کے وقت) منہ پیٹنا اور گریبان پھاڑنا منع ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1584 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، زُبَيْدٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، مَسْرُوقٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ جميعا، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ، وَضَرَبَ الْخُدُودَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (نوحہ میں) گریبان پھاڑے، منہ پیٹے، اور جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏حدیث علی بن محمد ومحمد بن بشار قد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 35 (1254)، سنن الترمذی/الجنائز 22 (999)، سنن النسائی/الجنائز 17 (1861)، (تحفة الأشراف: 9559)، وحدیث علی بن محمد وابو بکربن خلاّد قد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب 8 (3519)، الجنائز 38 (1297)، 39 (1298)، صحیح مسلم/الإیمان 44 (103)، سنن النسائی/الجنائز 17 (1861)، (تحفة الأشراف: 9569)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/386، 432، 442، 465) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1585 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْمُحَارِبِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَرَامَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، مَكْحُولٍ ، وَالْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْمُحَارِبِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَرَامَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، وَالْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ الْخَامِشَةَ وَجْهَهَا، وَالشَّاقَّةَ جَيْبَهَا، وَالدَّاعِيَةَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا (نوحہ میں) چہرہ نوچے، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4922، ومصباح الزجاجة: 571) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1586 سنن ابن ماجہ
أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَبِي الْعُمَيْسِ ، أَبَا صَخْرَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وأبى بردة ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْكُرُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وأبى بردة ، قَالَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى ، أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ فَأَفَاقَ، فَقَالَ لَهَا: أَوَ مَا عَلِمْتِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُحَدِّثُهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ، وَسَلَقَ، وَخَرَقَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری شدید ہو گئی، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں، جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا: کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بری ہوئے، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الإیمان 44 (104)، سنن النسائی/الجنائز20 (1866)، (تحفة الأشراف: 9020، 9081)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز29 (3130)، مسند احمد (4/396، 404، 405، 411، 416) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: جیسے جاہلوں کی عادت ہوتی ہے، بلکہ ہندوؤں کی رسم ہے کہ جب کوئی مر جاتا ہے تو اس کے غم میں سر بلکہ داڑھی مونچھ بھی منڈوا ڈالتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح